افسانہ: کیتھرین

short story

افسانہ نگار : شہناز نقوی


ریلوے اسٹیشن اس کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا ۔شکیل اس چھوٹے سے قصبے میں ہی پلا بڑھا تھا دراصل اس کے والد کی یہاں کافی زرعی زمین تھی ۔اس کا ایک بھائی امریکا میں تھا اور ایک بہن دوسرے شہر میں بیاہی تھی ۔وہ اب اپنے آبائی گھر میں اکیلا رہتا تھا اور اس کی ساری توجہ زراعت کی طرف تھی ۔
شام کو سیر کرنے وہ اکثر ریلوے پلیٹ فارم پر آ جاتا ۔ گھر میں صرف ایک ڈرائیور اور چوکیدار تھا ۔ باورچی تو صرف کھانا پکانے کے وقت ہی آتا تھا ۔ پلیٹ فارم پر چہل قدمی کر کے ہی اس کا دل لگتا ۔ ریلوے اسٹیشن کے ماحول سے اسے انس ہو گیا تھا ۔اس گاؤں سے گاڑیاں گذرتی تو بہت تھیں لیکن رکتی کم ہی تھیں ۔ مین لائن پر ہونے کی وجہ سے بہت سی گاڑیاں رن تھرو ہوتی تھیں ۔ دور سے آتی ہوئی اور دور تک جاتی ہوئی ٹرین کا منظر اسے بہت بھلا لگتا یہ الگ بات ہے کہ جب گاڑی چلی جاتی تو وہ اداس ہو جاتا جیسے اسے کسی کا انتظار ہو اور وہ نہ آیا ہو ۔ لیکن کس کا انتظار، یہ اسے معلوم نہیں تھا ۔
کیا ہماری عمریں انتظار میں ہی گزر جاتی ہیں !
مختلف اوقات میں مختلف انتطار !
آس ۔۔۔امید ۔۔ آشا
یہ سب کچھ الجھے ہوئے دھاگے کی مانند کیوں ہے !
وہ اکثر یہی سوچتا رہتا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملتا ۔
پلا بڑھا تو وہ گاؤں میں ہی تھا مگر کچھ عرصہ وہ شہر میں میڈیکل کی تعلیم کے لئے رہا اور پھر اعلی تعلیم کے لئے لندن چلا گیا ۔ اب وہ واپس گاؤں آ گیا تھا ۔ اسے گاؤں کے علاوہ کوئی بھی جگہ رہنے کے لئے اچھی نہ لگی ۔ گاؤں کا پر سکون ماحول اور ریلوے پلیٹ فارم پر اسے ایک اور کشش بھی تھی جو اس کے لئے بہت اہم تھی ۔ وہاں دو سٹال تھے وہ بک سٹال کے مالک زاہد کے پاس شام کو روانہ جا کر بیٹھ جاتا ۔ زاہد صاحب بھی صاحب ذوق تھے ۔ دونوں آرٹ کے موضوعات پر گھنٹوں باتیں کرتے اور ساتھ ساتھ چائے بھی پیتے رہتے ۔ شکیل ان سے اکثر کتابوں کی فرمائش کر کے نئی نئی کتابیں بھی منگواتا رہتا ۔ زاہد صاحب اس کے لئے دوسرے شہروں سے کتابیں منگواتے رہتے ۔
شکیل ویسے تو ڈاکٹر تھا لیکن اس کا دل آرٹ کی طرف زیادہ مائل تھا ۔ آج بھی وہ ہلکی ہلکی بارش کی پھوار میں شام کے اس دلفریب ماحول میں پلیٹ فارم پر ٹہل رہا تھا ۔ جب اسے زیادہ سردی محسوس ہوئی تو وہ زاہد صاحب کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے وہ شکیل کو بیٹا کہہ کر مخاطب کرتے ۔
بیٹا یہ کتاب میں نے خاص طور پر تمہارے لئے منگوائی ہے ۔ وہ کتاب دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔
مڈل ایج کے مائیکل اینجلو کی مصوری پر کتاب تھی ۔
وہ کتاب کی ورق گردانی کرتا رہا ۔ مائیکل اینجلو اسکا پسندیدہ مصور تھا ۔ اس نے لندن میں کسی گیلری میں اسکی پینٹنگز دیکھی تھیں ۔ آج وہی تصویریں ایک کتاب میں اس کے سامنے تھیں ۔ وہ لندن کی یادوں میں کھو گیا جب گیلری میں پیٹنگز دیکھتے ہوئے کیتھرین بھی اسکے ساتھ تھی جس کے ساتھ اسکی حسین یادیں وابستہ تھیں ۔ وہ اسکی ذہانت اور حسن کا پجاری تھا ۔
اب کیتھرین کہاں ہو گی !
یہ سوچ کر وہ اداس ہو گیا ۔ یادوں کے غبار میں کتنی ہی تصویریں اسے دھندلی سی دکھائی دینے لگیں ۔ بکھری سوچوں کے ساتھ خود کو سمیٹتے ہوئے وہ کافی دیر ایک ہی صفحے پر نظریں جمائے بیٹھا رہا ۔ کتنے سہانے دن تھے وہ ، جو میں نے اور کیتھرین نے اکٹھے گزارے تھے ۔ اسی کے ساتھ نے ہی تو مجھے ڈیلیکیٹ جزبوں کا احساس دلایا تھا ۔ وہ چائے پیتے ہوئے انہی سوچوں میں گم تھا کہ ایک گاڑی پلیٹ فارم پر رکی ۔ یہی ایک گاڑی تھی جو اسکے گاؤں میں آ کر رکتی تھی ۔ وہ ٹرین سے اترنے والے مسافروں کو دیکھنے لگا ۔ اترنے والے مسافروں میں سے ایک چہرہ اسے شناسا لگا قریب آنے پر اسے ڈاکٹر کنول نظر آئی وہ تیز قدموں سے اس کے قریب پہنچا ۔
ڈاکٹر کنول
وہ آواز پہچان کر رک گئی شکیل کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکان پھیل گئی ۔ ٹھہرنا تو اس نے اپنے ہاسپٹل میں تھا مگر شکیل اسے اپنے گھر لے آیا ۔
تم یہاں اچانک کیسے !
ہاں مجھے دراصل یہاں کمپلسری جاب کے لئے آنا پڑا ۔ ڈاکٹر کنول نے کہا ۔
یہ دونوں شہر کے میڈیکل کالج میں کلاس فیلو اور اچھے دوست رہے تھے ۔ زندگی کے گزرے لمحات بارے باتوں کے دوران ڈاکٹر کنول نے شکیل کو کافی سنجیدہ پایا ۔
شکیل تم تو بہت شوخ ہوا کرتے تھے بلکہ لاپرواہ کہوں تو غلط نہ ہو گا ۔ اتنا کیسے بدل گئے ۔
نہیں نہیں میں تو ویسا ہی ہوں ۔ رات کے کھانے کے بعد واک کرتے ہوئے شکیل نے کنول سے سوال کر ڈالا تم کیا سوچ رہی ہو !
میں سوچ رہی ہوں کہ کیسے قدرت نے ہمیں ایک بار پھر کسی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے !
کیا ایسا ہی سوچ رہے ہو تم بھی !
دوراہا
وہ کیسے شکیل نے کہا ۔
کنول بولی شکیل
یاد کرو جب میڈیکل کالج میں تمہیں میں نے پرپوز کیا تھا اور تم نے میری بات کو مذاق میں ٹال دیا بلکہ سنی ان سنی کر دیا تھا ۔
کیوں !
I still love you
تم تو اب بھی میری بات سنی ان سنی کر دو گے ۔
ڈاکٹر کنول کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی شکیل نے پرتپاک انداز میں کہا
I will marry you if you want
وہ خوشی اور حیرت سے پوچھنے لگی
اب یہ change کیوں!
بس یہ تبدیلی تو آنی تھی، شکیل نے کہا
کنول نے پھر سوال کیا
وہ کیسے !
وہ بس ایک ہی جملہ ادا کر سکا کہ
اس وقت کیتھرین مجھے نہیں ملی تھی ۔
یہ کہہ کر شکیل نے اپنا ہاتھ ڈاکٹر کنول کے کندھے پر رکھ دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

↑