| Featured

شکیل اختر…. منفرد لہجے کا شاعر

شکیل اختر ایک ایسی پہلو دار شخصیت کا نام ہے

تحریر: ارشد چہال

شکیل اختر ایک ایسی پہلو دار شخصیت کا نام ہے جس کا ہر پہلو دلچسپ، معتبر اور قابلِ ذکر ہے. وہ بہ یک وقت ہنسانے اور رُلانے کے ہنر میں ماہر ہے. وہ یہ بھی جانتا ہے کہ رُلانا کس کو ہے اور ہنسانا کس کو ہے. وہ کبھی ریڈیو ٹی وی سے بطور پراڈکاسٹر خدمات انجام دے رہا ہوتا ہے، کبھی کسی مشاعرے کی میزبانی کر رہا ہوتا ہے، کبھی حلقہ اربابِ ذوق میں اپنے فکر وفن کا مظاہرہ کررہا ہوتا ہے. کبھی دوستوں کی محفل کو زعفران زار بنا رہا ہوتا ہے. کبھی دفتر کی میٹنگز میں انتظامی معاملات پر بحث کر رہا ہوتا ہے تو کبھی کہیں مجلسِ شامِ غریباں میں فلسفہء شہادت کے فضائل بیان کر رہا ہوتا ہے. وہ بہت تیز تیز بولتا ہے، بہت تیز تیز تیز چلتا ہے اکثر لوگوں کو اس کی بات کی سمجھ اس کے جانے کے بعد آتی ہے اس لیے وہ لوگوں کے ردِ عمل کی شدت سے محفوظ رہتا ہے. اس کے تیرِِ مزاح و جُگت سے شاید ہی کوئی عصرِ حاضر کا شاعر یا دانشور بچا ہو گا. یہاں تک کہ وہ خود کو بھی ہدفِ تنقید و جگت بنانے سے باز نہیں آتا کبھی کبھی تو غور. کرنے پر لگتا ہے کہ وہ مزاح اور چُٹکُلوں کے پردے میں اکثر لوگوں کے بارے میں وہ حقائق بیان کر جاتا ہے کہ اگر وہی حقائق سنجیدہ لہجے میں بیان کیے جائیں تو معاملہ دست و گریبانی تک جا پہنچے . مگر شکیل اپنے اس ہنر میں اتنا تاک ہے کہ ہر کوئی اس کی سخت سے سخت بات کو بھی ہنسی میں ٹال دیتا ہے. وہ ناقابلِ برداشت کو قابلِ برداشت بنانے کا فن خوب جانتا ہے.
شکیل اختر کو میں 40 برسوں سے جانتا ہوں مگر اسے سمجھنے کے لیے ابھی مزید 40 برسوں تک اس کی قُربت میں رہنے کی ضرورت ہے. جیسا کہ میں نے ابتدا میں لکھا ہے وہ ایک مشکل اور پیچدار شخصیت کا مالک ہے جو بظاہر بہت آسان اورسہل معلوم ہوتا ہے. میں جب بھی اس سے ملا ہوں وہ ہر بار مجھے ایک نئے رنگ میں دکھائی دیا ہے کبھی کبھی تو وہ گرگٹ کی طرح اتنی تیزی سے رنگ بدلتا ہے کہ اس کے اصلی رنگ کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے اور وہ میری سمجھ سے بالا تر ہو جاتا ہے. اس کے باوجود اس کی شخصیت میں، اس کے لب و لہجے میں کوئی ایسی مقناطیسی کشش ہے جس سے وہ ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے. وہ جس محفل میں بھی ہوتا ہے اس محفل میں وہ اکیلا ہی بول رہا ہوتا ہے باقی تمام احباب صرف اس کی باتوں پر ہنسنے کے فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں اور خود وہ زیرِ لب تبسم سے بولتا چلا جاتا ہے البتہ اس کی آنکھوں سے شرارت کی ہنسی پھوٹ رہی ہوتی ہے. اس کے لہجے، اور مزاج کی تیز گامی اکثر لوگوں کو الجھائے رکھتی ہے. دراصل وہ ایک ایسا بازی گر ہے جو اپنے لب و لہجے کا کرتب دکھا کر آگے بڑھ جاتا. مگر اپنے پیچھے کسی پھول کی خوشبو، کسی تارے کی چمک چھوڑ جاتا ہے جو دیر تک دل و دماغ کو روشن اور معطر رکھتی ہے.
شکیل اختر سے میری پہلی ملاقات حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے ایک اجلاس میں ہوئی تھی. ان دنوں حلقے کا اجلاس اقبال ہال جی 6 میں ہوتا تھا. حلقے میں اسلام آباد کے تمام چھوٹے بڑے ادیب شاعر حصہ لیتے تھے. شکیل اختر کی آواز اور لہجہ سب سے جدا ہوتا تھا. ان دنوں شکیل اختر کا ایک شعر زباں زدِ عام تھا.
اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے مری دشمنی رہی
حلقے کے اجلاس کے بعد چائے پر ہماری خواہش ہوتی تھی کہ شکیل اختر سے کچھ شعر سنے جائیں مگر وہ عموماً اپنا کلام سنانے میں بُخل سے کام لیتا تھا. بس کبھی کبھار حلقے میں اس کی کوئی غزل یا نظم سننے کو مل جاتی تھی. جس سے اس کے فکری و شعری مزاج کا پتہ چلتا تھا. اس کی گفتگو کی طرح اسکے اشعار کا لہجہ بھی منفرد اور مختلف ہوتا تھا. جس کا اظہار اس کے اشعار میں جا بجا ملتا ہے.
اسی لیے تو میں معتوبِ شہر ٹھہرا ہوں
کہ احتجاج کا لہجہ مرے بیان میں ہے
اور یہ سچ ہے کہ شکیل اختر کے لہجے میں احتجاج کا پہلو ہمیشہ نمایاں رہا ہے.حق بات کہنے میں وہ ہمیشہ بے باک رہا ہے. یہ بات اس کے لیے یقیناً نقصان دہ بھی رہی ہو گی لیکن حسینی روش پر چلنے والے نقصان کی پروا نہیں کرتے. آواز دب بھی جائے تب بھی لہجے کی گونج سنائی دیتی ہے
ایک ایسا بھی ہے لہجہ مرے اندر اختر
برف ہو جائے گی آواز مگر بولے گا
شکیل اختر نے کبھی بھی زُودگوئی سے کام نہیں لیا. اس نے بہت کم کم لکھا ہے. مرزا غالب نے ایک قصیدے میں لکھا تھا.
فکر میری گُہر اندوزِ اشاراتِ کثیر
کلک میری رقم آموزِ عباراتِ قلیل
شکیل کی شاعری میں بھی فکر کے گُہر اور اشاراتِ کثیر پائے جاتے ہیں مگر اس کا قلم بھی کم کم لکھنے پر آمادہ ہوتا ہے.
چالیس برسوں میں ایک شعری مجموعہ وہ بھی دو سو سے کم صفحات کا جبکہ اس کے ہم عصر درجنوں مجموعے چھپوا کر فارغ ہو چکے ہیں. 1980 کی دہائی میں اسلام آباد کے شعری افق پر نمایاں ہونے والے شعرا میں ایک شکیل اختر ہی رہ گیا تھا جس کے شعری مجموعے کا سب کو شدت سے انتظار تھا. مگر شکیل نے کبھی اپنا مجموعہ منظرِ عام پر لانے کی کوشش ہی نہیں کی. اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسے اپنی شاعری پر اعتبار نہیں تھا. میرے خیال میں وہ کسی پرِ عنقا کی تلاش میں تھا. اب معلوم نہیں وہ پرِ عنقا اسے ملا کہ نہیں. بھلا ہو طارق نعیم کا جس نے شکیل اختر کو شعری مجموعے کی اشاعت پر آمادہ کر لیا اور وہ شاہکار جس کا چالیس برس سے انتظار تھا بالآخر منظرِ عام پر آگیا.
زندگی اس نامکمل گھر کی صورت ہے جسے
توڑنا بھی عیب ہے، تشکیل بھی ممکن نہیں
بالآخر شاعری کے اس گھر کی تشکیل ممکن ہو گئی اور شکیل اختر نے اس گھر کے دروازے پر “اک نام کیا لکھا” کی تختی لگا دی.
یہ نام جو شکیل نے کبھی اپنے دل کے ساحل پر لکھا تھا جس کےلیے اس نے زندگی بھر مخالف ہواؤں سے دشمنی مول لی، آخر وہ نام کس کا تھا. ہر شاعر کی زندگی میں ایک نام، ایک چہرہ، ایک شخص ایسا ضرور آتا ہے. جس کی سراپا نگاری میں وہ لفظوں کے غنچے، شعروں کی کلیاں اور غزلوں کے پھول پروتا ہے. یہی آرائش و ستائش کا فن اس کی زندگی میں حسن و جمال کے در کھول دیتا ہے. شکیل اختر کو پڑھتے ہوئے بھی زندگی کے حسین لمحات و تجربات لفظوں کا روپ دھار کر، حدِ نگاہ تک پھولوں کے تختوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں. ان پھولوں کے سائے میں دکھوں کے کانٹے بھی ہیں. جو شکیل کے ہاتھوں کو زخمی  کرتے رہتے ہیں مگر وہ اس چبھن کا احساس دوسروں کو کبھی نہیں ہونے دیتا بلکہ ان میں وہی اپنی ہنسی کی کلیاں اور چُٹکُلوں کے پھول بانٹتا رہتا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

↑