ریاض عادل
یہاں تو لگنے لگے بار جسم و جان مجھے
یہ کس مقام پہ لائے ہیں مہربان مجھے
مری زمین مرے پاؤں کھینچ لیتی ہے
وگرنہ روز بلاتا ہے آسمان مجھے
کسی کے دم سے ہی دلچسپیاں سلامت تھیں
اب ایک آنکھ نہ بھائے ترا جہان مجھے
نئے محاذ پہ جاؤں تو کس طرح جاؤں
ابھی تو دفن بھی کرنا ہے خاندان مجھے
ہر ایک گام پہ بیٹھے ہوئے تھے ہرکارے
ہر ایک گام پہ دینا پڑا لگان مجھے
ریاض عادل
