( رفعت وحید ) افسانہ
کمرے میں مدھم پیلی روشنی جل رہی تھی۔دیواروں پر وقت کی تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی، جیسے ہر اینٹ نے برسوں کی خاموشی اپنے اندر جذب کر لی ہو۔ باہر رات اپنی پوری خاموشی کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی سنسان گلیاں، ٹھہرے ہوئے سائے، اور ہوا میں ایک بوجھل سا سکوت۔ مگر اس گھر کے اندر ایک ایسی کہانی سانس لے رہی تھی جس کا ہر باب دکھ سے بھرا ہوا تھا۔ گھڑی نے بارہ بجائے تو کمرے کی خاموشی میں ایک ہلکی سی جنبش ہوئی، جیسے کسی نے آہستہ سے کروٹ لی ہو۔ عابدہ چونک کر اٹھی، اس کی نگاہ دروازے تک گئی، پھر بستر کے خالی حصے پر ٹھہر گئی۔ وہ ایک لمحہ ساکت رہی، پھر خود ہی سنبھل گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب اس کمرے میں کوئی کروٹ نہیں لیتا، مگر پھر بھی وہ ہر رات جاگتی تھی،اور یہ جاگنا اب عادت نہیں رہا تھا بلکہ اس کے وجود میں پیوست ہو چکا تھا، جیسے نیند اس سے ہمیشہ کے لیے روٹھ گئی ہو۔
آج بھی وہ جاگ رہی تھی،عبداللہ کی جدائی میں ڈوبی ہوئی۔ اس کی نگاہیں کبھی چھت پر جا ٹھہرتیں، کبھی دیواروں پر، اور کبھی اس خالی بستر پر جہاں کبھی ایک سانس بستی تھی۔ اس کے اندر ایک ہی جملہ بار بار اُبھرتا تھا: “میری زندگی کا سب سے قیمتی مگر سب سے نازک حصہ۔”
“عبداللہ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
عبداللہ کا نام لیتے ہی اس کے دل میں ایک مدھم سی لرزش دوڑ پڑتی ہے۔ وہ بچپن سے ہی معذور تھا، جب پہلی بار عابدہ نے اسے گود میں لیا تھا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ بچے عام طور پر روتے ہیں مگر وہ بس آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر کہہ نہ سکتا ہو۔ ڈاکٹروں نے شروع ہی سے کہہ دیا تھا کہ اس کی نشوونما نارمل نہیں، پہلے یہ ایک اندیشہ تھا، پھر آہستہ آہستہ حقیقت بن گیا۔ وہ نہ چل سکا، نہ بول سکا، اور وقت کے ساتھ اس کا جسم کمزور ہوتا چلا گیا۔ ہر مہینے ایک نئی امید جاگتی اور ہر امید کے بعد ایک خاموش شکست، مگر وہ زندہ تھا، اور عابدہ کے لیے یہی کافی تھا۔
عبداللہ بائیس برس کا تھا مگر اس کی دنیا ایک بستر تک محدود رہی۔ وہ نہ اپنی بات کہہ سکتا تھا نہ اپنی تکلیف، صرف اس کی آنکھیں تھیں جو سب کچھ بیان کر دیتی تھیں، کبھی سوال، کبھی ہلکی سی شکایت، اور کبھی بس ایک خاموش نظر۔ عابدہ ہر نظر کو سمجھ لیتی تھی، کیونکہ وہ کہتی تھی کہ ماں کو زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے “بیچارا”، اور یہی لفظ عابدہ کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتا۔ وہ فوراً کہتی، “میرا بیٹا بیچارا نہیں ہے، وہ بس مختلف ہے، اور مختلف ہونا کمی نہیں ہوتا۔” لوگ خاموش ہو جاتے مگر ان کی آنکھوں میں ترس باقی رہتا، اور عابدہ کو ترس سے نفرت تھی، اسے صرف محبت چاہیے تھی۔
وہ بستر کے پاس رکھی وہیل چیئر تک گئی اور اس پر آہستہ سے ہاتھ پھیرا۔ دھول کی باریک تہہ انگلیوں سے لپٹ گئی، جیسے وقت نے بھی اس جگہ سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہو۔ یہ وہیل چیئر محض ایک چیز نہیں تھی بلکہ ایک نامکمل سفر تھی۔ اس نے پہیے کو ہلکا سا گھمایا تو چرچراہٹ کی مدھم آواز کمرے میں گونجی، وہی آواز جو کبھی اسے بے چین کرتی تھی مگر اب اسی میں ایک عجیب سا سکون چھپا تھا، جیسے زندگی کی کوئی آخری بازگشت۔ باہر بارش شروع ہو چکی تھی اور بوندیں کھڑکی سے ٹکرا کر بہنے لگیں، جیسے یادیں آہستہ آہستہ پگھل رہی ہوں۔ عابدہ نے آنکھیں بند کیں تو اسے عبداللہ کی ہنسی سنائی دی، وہی بےساختہ، معصوم ہنسی جو بغیر کسی وجہ کے پھوٹ پڑتی تھی۔ کبھی وہ اچانک ہنس دیتا تھا اور عابدہ حیرت سے پوچھتی “کیا ہوا؟” وہ جواب نہیں دے سکتا تھا مگر اس کی آنکھیں چمک اٹھتی تھیں، اور وہ سمجھ جاتی کہ وہ خوش ہے۔
عابدہ کے ہونٹ ہلے مگر آواز ٹوٹ گئی، اور آنسو بھی نہ بہے۔ شاید آنسو بھی ایک حد کے بعد تھک جاتے ہیں، یا دکھ اتنا گہرا ہو جائے تو آنکھیں بھی خاموش ہو جاتی ہیں۔ گھر ویسا ہی تھا دیواریں، پردے، برتنوں کی ہلکی آوازسب کچھ اپنی جگہ، بس ایک سانس کم ہو گئی تھی، اور وہی سب سے قیمتی تھی۔ لوگ آتے، تسلی دیتے، چلے جاتے، کہتے “اللہ کی امانت تھا” اور “اب وہ تکلیف سے آزاد ہے”، اور عابدہ سر ہلا دیتی مگر دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتا تھا، کیونکہ ماں کے لیے اولاد کبھی امانت نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی دھڑکن ہوتی ہے، جو جدا ہو جائے تو دل چلتا تو رہتا ہے مگر پہلے جیسا نہیں رہتا۔
گھڑی کی سوئیاں ایک پر آ کر رک گئیں اور رات مزید گہری ہو گئی۔ خاموشی اب بوجھ بننے لگی تھی۔ عابدہ نے وہیل چیئر کو کھڑکی کے پاس کر دیا، جیسے عبداللہ کو بارش دکھا رہی ہو، اور دھیرے سے بولی، “دیکھو، بارش ہو رہی ہے، تمہیں بارش اچھی لگتی تھی نا؟” اس کی آواز میں ایک عجیب سی نرمی تھی، جیسے وہ واقعی سن رہا ہو۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا، پردہ ہلکا سا لرزا، اور ایک لمحے کے لیے اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ہو،نرم، مانوس، اپنا سا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور اس لمحے کو تھام لینے کی کوشش کی۔ وہ مسکرائی، ایک ایسی مسکراہٹ جس میں دکھ بھی تھا اور محبت بھی، اور بہت دھیمی آواز میں کہا، “تم گئے نہیں ہو عبداللہ، بس دکھ نے تمہاری جگہ لے لی ہے۔”
اس نے لائٹ بند کر دی۔کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا، مگر اس کے اندر ایک مدھم سی روشنی باقی رہی یادوں کی روشنی، جو نہ بجھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔ کھڑکی کے باہر بارش اب بھی جاری تھی، اور اندر ایک ماں اپنے دکھ کے ساتھ بیٹھی تھی خاموش، مگر مکمل۔ آدھی رات گزر چکی تھی،اور عابدہ کا دکھ پھر سے پورا ہو گیا تھا