( ایثار رانا )
زمیں پر ستارے نظر آ رہے ہیں
یہ کیسے نظارے، نظر آ رہے ہیں
یہ مزدور بچوں کی آنکھوں میں دیکھو
اڑتے غبارے نظر آ رہے ہیں
جواں بخت بیٹا عصا بھی بنے گا
مقدر ہمارا نظر آ رہاہے
بصد شکر اب تک ہے بینائی اچھی
ہمیں اپنے پیارے نظر آ رہے ہیں
ریا کار دنیا ، ریا کار ہو گی
ہمیں تو سہارے نظر آ رہے ہیں
جو سونا بناتے تھے مٹی کو چھو کر
انہیں اب خسارے نظر آ رہے ہیں
( ایثار رانا )

