غزل

( ایثار رانا )

زمیں پر ستارے نظر آ رہے ہیں
یہ کیسے نظارے، نظر آ رہے ہیں

یہ مزدور بچوں کی آنکھوں میں دیکھو

اڑتے غبارے نظر آ رہے ہیں


جواں بخت بیٹا عصا بھی بنے گا
مقدر ہمارا نظر آ رہاہے

بصد شکر اب تک ہے بینائی اچھی
ہمیں اپنے پیارے نظر آ رہے ہیں

ریا کار دنیا ، ریا کار ہو گی
ہمیں تو سہارے نظر آ رہے ہیں

جو سونا بناتے تھے مٹی کو چھو کر

انہیں اب خسارے نظر آ رہے ہیں

             ( ایثار رانا )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

↑